میر تقی میر میر تقی میر

چاہت کا اظہار کیا سو اپنا کام خراب ہوا

چاہت کا اظہار کیا سو اپنا کام خراب ہوا اس پردے کے اٹھ جانے سے اس کو ہم سے حجاب ہوا ساری ساری راتیں جاگے عجز و نیاز و زاری کی تب جاکر ملنے کا اس کے صبح کے ہوتے جواب ہوا کیا کہیے مہتاب میں شب کی وہ بھی ٹک آبیٹھا تھا تاب رخ اس مہ نے دیکھی سو درجے بیتاب ہوا شمع جو آگے شام کو آئی رشک سے جل کر خاک ہوئی صبح گل تر سامنے ہوکر جوش شرم سے آب ہوا مرتے نہ تھے ہم عشق کے رفتہ بے کفنی سے یعنی میر دیر میسر اس عالم میں مرنے کا اسباب ہوا

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR