میر تقی میر
سینے کا سوز بہت بھڑکا جلا تن مارا
سینے کا سوز بہت بھڑکا جلا تن مارا
جامہ زیبوں نے غضب آگ پہ دامن مارا
صورت اس کی مری کھینچی تھی گلے لگتے ہوئے
سو جفاکار نے نقاش کو گردن مارا
دل ہی میں خون ہوئی وصل کی خواہش اے میر
ہم نے آزادگی ہجر سے کیا من مارا