میر تقی میر
نے ہم سے کچھ نہ اس ستم ایجاد سے ہوا
نے ہم سے کچھ نہ اس ستم ایجاد سے ہوا
ظلم صریح عشق کی امداد سے ہوا
شیریں کا حسن ایسا تھا جو خستہ جان دیں
جو کچھ ہوا سو خواہش فرہاد سے ہوا
خوش زمزمہ طیور ہی ہوتے ہیں میر اسیر
ہم پر ستم یہ صبح کی فریاد سے ہوا