میر تقی میر
اگرچہ جہاں میں نے سب چھان مارا
اگرچہ جہاں میں نے سب چھان مارا
ولے اس کی نایابی نے جان مارا
قیامت کو جرمانۂ شاعری پر
مرے سر سے میرا ہی دیوان مارا
رہائی ہے اس صیدافگن سے مشکل
گیا سانجھ تو صبح پھر آن مارا
لگا آتشیں نالہ شب اپنے دل کو
اس انداز سے جیسے اک بان مارا
قیامت کا عرصہ ہے اے میر درہم
مرے شور و زاری نے میدان مارا