میر تقی میر میر تقی میر

خوں نہ ہوا دل چاہیے جیسا گو اب کام سے جاوے گا

خوں نہ ہوا دل چاہیے جیسا گو اب کام سے جاوے گا کام اپنے وہ کیا آیا جو کام ہمارے آوے گا آنکھیں لگی رہتی ہیں اکثر چاک قفس سے اسیروں کی جھونکا باد بہاری کا گل برگ کوئی یاں لاوے گا فتنے کتنے جمع ہوئے ہیں زلف و خال و خد و قد کوئی نہ کوئی عہد میں میرے سران میں سے اٹھاوے گا عشق میں تیرے کیا کیا سن کر یار گئی کر جاتے ہیں یعنی غم کھاتے ہیں بہت ہم غم بھی ہم کو کھاوے گا ایک نگہ کی امید بھی اس کی چشم شوخ سے ہم کو نہیں ایدھر اودھر دیکھے گا پر ہم سے آنکھ چھپاوے گا اب تو جوانی کا یہ نشہ ہی بے خود تجھ کو رکھے گا ہوش گیا پھر آوے گا تو دیر تلک پچھتاوے گا دیر سے اس اندیشے نے ناکام رکھا ہے میر ہمیں پائوں چھوئیں گے اس کے ہم تو وہ بھی ہاتھ لگاوے گا

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR