میر تقی میر
عشق کی ہے بیماری ہم کو دل اپنا سب درد ہوا
عشق کی ہے بیماری ہم کو دل اپنا سب درد ہوا
رنگ بدن میت کے رنگوں جیتے جی ہی پہ زرد ہوا
تب بھی نہ سر کھینچا تھا ہم نے آخر مر کر خاک ہوئے
اب جو غبارضعیف اٹھا تھا پامالی میں گرد ہوا