میر تقی میر میر تقی میر

مکے گیا مدینے گیا کربلا گیا

مکے گیا مدینے گیا کربلا گیا جیسا گیا تھا ویسا ہی چل پھر کے آگیا دیکھا ہو کچھ اس آمدوشد میں تو میں کہوں خود گم ہوا ہوں بات کی تہ اب جو پا گیا کپڑے گلے کے میرے نہ ہوں آبدیدہ کیوں مانند ابر دیدئہ تر اب تو چھا گیا جاں سوز آہ و نالہ سمجھتا نہیں ہوں میں یک شعلہ میرے دل سے اٹھا تھا جلا گیا وہ مجھ سے بھاگتا ہی پھرا کبر و ناز سے جوں جوں نیاز کرکے میں اس سے لگا گیا جور سپہر دوں سے برا حال تھا بہت میں شرم ناکسی سے زمیں میں سما گیا دیکھا جو راہ جاتے تبختر کے ساتھ اسے پھر مجھ شکستہ پا سے نہ اک دم رہا گیا بیٹھا تو بوریے کے تئیں سر پہ رکھ کے میر صف کس ادب سے ہم فقرا کی اٹھا گیا

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR