میر تقی میر میر تقی میر

دل کو گل کہتے تھے درد و غم سے مرجھایا گیا

دل کو گل کہتے تھے درد و غم سے مرجھایا گیا جی کو مہماں سنتے تھے مہمان سا آیا گیا عشق سے ہو حال جی میں کچھ تو کہیے دیکھیو ایک دن باتیں ہی کرتے کرتے سنّایا گیا جستجو میں یہ تعب کھینچے کہ آخر ہو گئے ہم تو کھوئے بھی گئے لیکن نہ تو پایا گیا اک نگہ کرنے میں غارت کردیا اے وائے ہم دل جو ساری عمر کا اپنا تھا سرمایہ گیا کیا تعجب ہے جو کوئی دل زدہ ناگہ مرے اضطراب عشق میں جی تن سے گھبرایا گیا ماہ کہتے تو کہا اس روے خوش کا ہے حریف شہر میں پھر ہم سے اپنا منھ نہ دکھلایا گیا جیسے پرچھائیں دکھائی دے کے ہوجاتی ہے محو میر بھی اس کام جاں کا ووہیں تھا سایہ گیا

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR