میر تقی میر
در پر سے ترے اب کے جائوں گا تو جائوں گا
در پر سے ترے اب کے جائوں گا تو جائوں گا
یاں پھر اگر آئوں گا سید نہ کہائوں گا
یہ نذر بدی ہے میں کعبے سے جو اٹھنا ہو
بت خانے میں جائوں گا زنار بندھائوں گا
آزار بہت کھینچے یہ عہد کیا ہے اب
آئندہ کسو سے میں دل کو نہ لگائوں گا
سرگرم طلب ہوکر کھویا سا گیا آپھی
کیا جانیے پائوں گا یا اس کو نہ پائوں گا
گو میر ہوں چپکا سا پر طرفہ ہنرور ہوں
بگڑے گا نہ ٹک وہ تو سو باتیں سنائوں گا