میر تقی میر میر تقی میر

میں جو نظر سے اس کی گیا تو وہ سرگرم کار اپنا

میں جو نظر سے اس کی گیا تو وہ سرگرم کار اپنا کہنے لگا چپکا سا ہوکر ہائے دریغ شکار اپنا کیا یاری کر دور پھرا وہ کیا کیا ان نے فریب کیے جس کے لیے آوارہ ہوئے ہم چھوٹا شہر و دیار اپنا ہاتھ گلے میں ان نے نہ ڈالا میں یہ گلا جا کاٹوں گا غم غصے سے دیکھیو ہوں گا آپھی گلے کا ہار اپنا چھاتی پہ سانپ سا پھر جاتا ہے یاد میں اس کے بالوں کی جی میں لہر آوے ہے لیکن رہتا ہوں من مار اپنا بات کہی تلوار نکالی آنکھ لڑائی جی مارے کیونکے جتاوے اس سے کوئی ربط محبت پیار اپنا ہم نے یار وفاداری میں کوتاہی تقصیر نہ کی کیا روویں چاہت کے اثر کو وہ نہ ہوا ٹک یار اپنا رحم کیا کر لطف کیا کر پوچھ لیا کر آخر ہے میر اپنا غم خوار اپنا پھر زار اپنا بیمار اپنا

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR