میر تقی میر
عالم علم سے اس عالم میں ہر لحظہ طاری ہے فیض
عالم علم سے اس عالم میں ہر لحظہ طاری ہے فیض
ہے معلوم کہ عالم عالم پھر یاں وہ جاری ہے فیض
سنگ و شجر ہیں پانی پون ہیں غنچہ و گل ہیں بارو بر
عالم ہژدہ ہزار جو ہیں یہ سب میں وہ ساری ہے فیض