میر تقی میر
غصے میں ناخنوں نے مرے کی ہے کیا تلاش
غصے میں ناخنوں نے مرے کی ہے کیا تلاش
تلوار کا سا گھاؤ ہے جبہے کا ہر خراش
صحبت میں اس کی کیونکے رہے مرد آدمی
وہ شوخ و شنگ و بے تہ و اوباش و بدمعاش
بے رحم تجھ کو ایک نظر کرنی تھی ادھر
کشتے کے تیرے ٹکڑے ہوئے لے گئے بھی لاش
آباد اجڑا لکھنؤ چغدوں سے اب ہوا
مشکل ہے اس خرابے میں آدم کی بودو باش
عمرعزیز یاس ہی میں جاتی ہے چلی
امیدوار اس کے نہ ہم ہوتے میر کاش