میر تقی میر میر تقی میر

اس بستر افسردہ کے گل خوشبو ہیں مرجھائے ہنوز

اس بستر افسردہ کے گل خوشبو ہیں مرجھائے ہنوز اس نکہت سے موسم گل میں پھول نہیں یاں آئے ہنوز اس زلف و کاکل کو گوندھے دیر ہوئی مشاطہ کو سانپ سے لہراتے ہیں بال اس کے بل کھائے ہنوز آنکھ لگے اک مدت گذری پاے عشق جو بیچ میں ہے ملتے ہیں معشوق اگر تو ملتے ہیں شرمائے ہنوز تہ داری کیا کہیے اپنی سختی سے اس کی جیتے موئے حرف و سخن کچھ لیکن ہرگز منھ پہ نہیں ہم لائے ہنوز ایسی معیشت کر لوگوں سے جیسی غم کش میر نے کی برسوں ہوئے ہیں اٹھ گئے ان کو روتے ہیں ہمسائے ہنوز

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR