میر تقی میر
عشق ہمارا خون کرے ہے جی نہیں رہتا یار بغیر
عشق ہمارا خون کرے ہے جی نہیں رہتا یار بغیر
وہ گھر سے نہیں اپنے نکلتا دم بھر بھی تلوار بغیر
جان عزیز کی جاں بھی گئے پر آنکھیں کھلی رہ جائیں گی
یعنی کشتۂ حیرت تھا میں آئینہ سا دیدار بغیر
گوندھے گئے سو تازہ رہے جو سبد میں تھے سوملالت سے
سوکھ کے کانٹا پھول ہوئے وے اس کے گلے کے ہار بغیر
پھولوں کا موسم کا شکے ہو پردے سے ہوا کے چشمک زن
گل کھائے ہیں ہزار خزاں میں مرغ چمن نے بہار بغیر
وحشی وطیر سے دشت بھرے تھے صیادی تھی یار کی جب
خالی پڑے ہیں دام کہیں میر اس کے ذوق شکار بغیر