میر تقی میر میر تقی میر

اک آدھ دن نکل مت اے ابر ادھر سے ہوکر

اک آدھ دن نکل مت اے ابر ادھر سے ہوکر بیٹھا ہوں میں ابھی ٹک سارا جہاں ڈبو کر اب کل نہیں ہے تجھ کو بے قتل غم کشوں کے کہتے تو تھے کہ ظالم خوں ریزی سے نہ خو کر کہتے ہیں راہ پائی زاہد نے اس گلی کی روتا کہیں نہ آوے ایمان و دیں کو کھو کر ہے نظم کا سلیقہ ہرچند سب کو لیکن جب جانیں کوئی لاوے یوں موتی سے پرو کر کیا خوب زندگی کی دنیا میں شیخ جی نے تعبیر کرتے ہیں سب اب ان کو مردہ شو کر گو تیرے ہونٹ ظالم آب حیات ہوں اب کیا ہم کو جی کی بیٹھے ہم جی سے ہاتھ دھو کر کس کس ادا سے فتنے کرتے ہیں قصد ادھر کا جب بے دماغ سے تم اٹھ بیٹھتے ہو سو کر ٹکڑے جگر کے میرے مت چشم کم سے دیکھو کاڑھے ہیں یہ جواہر دریا کو میں بلو کر احوال میرجی کا مطلق گیا نہ سمجھا کچھ زیر لب کہا بھی سو دیر دیر رو کر

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR