میر تقی میر میر تقی میر

لاوے جھمکتے رخ کی آئینہ تاب کیونکر

لاوے جھمکتے رخ کی آئینہ تاب کیونکر ہو چہرہ اس کے لب سے یاقوت ناب کیونکر ہے شعر و شاعری گو کب سے شعار اپنا حرف و سخن سے کریے اب اجتناب کیونکر جوں ابر اگر نہ روویں وادی و کوہ پر ہم تو شہروں شہروں آوے نہروں میں آب کیونکر اب بھی نہیں ہے ہم کو اے عشق ناامیدی دیکھیں خراب ہووے حال خراب کیونکر اڑ اڑ کے جا لگے ہے وہ تیر مار کاکل کھاتا رہے نہ افعی پھر پیچ تاب کیونکر چشمے محیط سے جو ہووے نہ چشم تر کے تو سیر ہو ہوا پر پھیلے سحاب کیونکر اب تو طپش نے دل کی اودھم مچا رکھا ہے تسکین پاوے دیکھوں یہ اضطراب کیونکر رو چاہیے ہے اس کے در پر بھی بیٹھنے کو ہم تو ذلیل اس کے ہوں میر باب کیونکر

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR