میر تقی میر میر تقی میر

تڑپے ہے غم زدہ دل لاوے گا تاب کیونکر

تڑپے ہے غم زدہ دل لاوے گا تاب کیونکر خوں بستہ ہیں گی آنکھیں آوے گی خواب کیونکر پر ناتواں ہوں مجھ پر بھاری ہے جی ہی اپنا مجھ سے اٹھیں گے اس کے ناز و عتاب کیونکر اس بحر میں ہے مٹنا شکل حباب ہر دم ابھرا رہے ہمیشہ نقش پرآب کیونکر پانی کے دھوکے پیاسے کیا کیا عزیز مارے سر پر نہ خاک ڈالے اپنے سراب کیونکر آب رواں نہ تھا کچھ وہ لطف زندگانی جاتی رہی جوانی اپنی شتاب کیونکر سینے میں میرے کب سے اک سینک ہی رہے ہے قلب و کبد نہ ہوویں دونوں کباب کیونکر شلّاق خواری کی تھی خجلت جو کچھ نہ بولا منھ کیا ہے نامہ بر کا نکلے جواب کیونکر سوز دل و جگر سے جلتا ہے تن بدن سب میں کیا کوئی ہو کھینچے ایسے عذاب کیونکر چہرہ کتابی اس کا مجموعہ میر کا ہے اک حرف اس دہن کا ہوتا کتاب کیونکر

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR