میر تقی میر میر تقی میر

بات کہو کیا چپکے چپکے بیٹھ رہو ہو یاں آکر

بات کہو کیا چپکے چپکے بیٹھ رہو ہو یاں آکر ایسے گونگے بیٹھو ہو تم تو بیٹھیے اپنے گھر جاکر دل کا راز کیا میں ظاہر بلبل سے گلزار میں لیک اس بے تہ نے صحن چمن میں جان دی چلا چلا کر جیسا پیچ و تاب پر اپنے بالیدہ تھا ویسا ہی مارسیہ کو رشک سے مارا ان بالوں نے بل کھاکر ڈھونڈتے تا اطفال پھریں نہ ان کے جنوں کی ضیافت میں بھر رکھی ہیں شہر کی گلیاں پتھر ہم نے لالاکر ہاہا ہی ہی نے شوخ کی میرے تنگ کیا خوش رویاں کو سرخ و زرد ہوئے خجلت سے چھوٹے ہاہاہاہا کر چاہ کا جو اظہار کیا تو فرط شرم سے جان گئی عشق شہرت دوست نے آخر مارا مجھ کو رسوا کر میر یہ کیا روتا ہے جس سے آنکھوں پر رومال رکھا دامن کے ہر پاٹ کو اپنے گریۂ زار سے دریا کر

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR