میر تقی میر میر تقی میر

بھروسا اسیری میں تھا بال و پر پر

بھروسا اسیری میں تھا بال و پر پر سو پر وا ہوئے نہ قفس کے بھی در پر سواران شائستہ کشتے ہیں تیرے نہ تیغ ستم کر علم ہر نفر پر کھلا پیش دنداں نہ اس کا گرہچہ کنھوں نے بھی تھوکا نہ سلک گہر پر جلے کیوں نہ چھاتی کہ اپنی نظر ہے کسو شوخ پرکار رعنا پسر پر نہ محشر میں چونکا مرا خون خفتہ وہی تھا یہ خوابیدہ اس شور و شر پر کئی زخم کھا کر تڑپتا رہا دل تسلی تھی موقوف زخم دگر پر سنا تھا اسے پاس لیکن نہ پایا چلے دور تک ہم گئے اس خبر پر سرشب کہے تھا بہانہ طلب وہ گھڑی ایک رات آئی ہو گی پہر پر کوئی پاس بیٹھا رہے کب تلک یوں کہو ہو گی رخصت گئے اب سحر پر جہاں میں نہ کی میر اقامت کی نیت کہ مشعر تھا آنا مرا یاں سفر پر

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR