میر تقی میر
کیا کہیے ہوئے مملکت ہستی میں وارد
کیا کہیے ہوئے مملکت ہستی میں وارد
بے یار و دیار اب تو ہیں اس بستی میں وارد
کچھ ہوش نہ تھا منبر و محراب کا ہم کو
صد شکر کہ مسجد میں ہوئے مستی میں وارد