میر تقی میر
اس سے نہ الفت ہو مجھ کو تو ہووے نہ میرا چہرہ زرد
اس سے نہ الفت ہو مجھ کو تو ہووے نہ میرا چہرہ زرد
ہاتھ نہ رکھوں کیوں دل پر میں رنج و بلا ہے قیامت درد
ملنے میں خنکی ہی کرتا وہ کاشکے پہلے چاہ کے دن
گرمی نہ ہوتی آپس میں تو کھنچتی نہ ہر دم آہ سرد
برسوں میں اقلیم جنوں سے دو دیوانے نکلے تھے
میر آوارئہ شہر ہوا ہے قیس ہوا ہے بیاباں گرد