میر تقی میر
جھمک سے اس کے بدن میں ہر ایک جا ہے شوخ
جھمک سے اس کے بدن میں ہر ایک جا ہے شوخ
برنگ برق سراپا وہ خودنما ہے شوخ
پڑے ہے سینکڑوں جا راہ چلنے میں اس کی
کسو کی آنکھ تو دیکھے کوئی بلا ہے شوخ
نظر پڑی نہیں کیا اس کی شوخ چشمی میر
حضور یار کے چشم غزال کیا ہے شوخ