میر تقی میر
وہ نوباوئہ گلشن خوبی سب سے رکھے ہے نرالی طرح
وہ نوباوئہ گلشن خوبی سب سے رکھے ہے نرالی طرح
شاخ گل سا جائے ہے لہکا ان نے نئی یہ ڈالی طرح
مونڈھے چلے ہیں چولی چسی ہے مہری پھنسی ہے بند کسے
اس اوباش نے پہناوے کی اپنے تازہ نکالی طرح
جبہہ نوچا منھ نوچا سب سینہ نوچا ناخن سے
میر نے کی ہے غم غصے میں اپنی یہ بدحالی طرح