میر تقی میر
اے بوے گل سمجھ کے مہکیو پون کے بیچ
اے بوے گل سمجھ کے مہکیو پون کے بیچ
زخمی پڑے ہیں مرغ ہزاروں چمن کے بیچ
بہ بھی گیا میں اندر ہی اندر گداز ہو
دھوکا ہے جوں حباب مرے پیرہن کے بیچ
میر تقی میر