میر تقی میر میر تقی میر

اس کے رنگ کھلا ہے شاید کوئی پھول بہار کے بیچ

اس کے رنگ کھلا ہے شاید کوئی پھول بہار کے بیچ شور پڑا ہے قیامت کا سا چار طرف گلزار کے بیچ رحم کرے وہ ذرا ذرا تو دیکھنے آوے دم بھر یاں اب تو دم بھی باقی نہیں ہے اس کے کسو بیمار کے بیچ چین نہ دے گا خاک کے نیچے ہرگز عشق کے ماروں کو دل تو ساتھ اے کاش نہ گاڑیں ان لوگوں کے مزار کے بیچ چشم شوخ سے اس کی یارو کیا نسبت ہے غزالوں کو دیکھتے ہیں ہم بڑا تفاوت شہری اور گنوار کے بیچ کون شکار رم خوردہ سے جاکے کہے ٹک پھر کر دیکھ کوئی سوار ہے تیرے پیچھے گرد و خاک و غبار کے بیچ رونے سے جو رود بہا تو اس کا کیا ہے یارو عجب جذب ہوئے ہیں کیا کیا دریا اپنے جیب و کنار کے بیچ چشمک غمزہ عشوہ کرشمہ آن انداز و ناز و ادا حسن سواے حسن ظاہر میر بہت ہیں یار کے بیچ

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR