میر تقی میر میر تقی میر

شہر سے یار سوار ہوا جو سواد میں خوب غبار ہے آج

شہر سے یار سوار ہوا جو سواد میں خوب غبار ہے آج دشتی وحش وطیر اس کے سر تیزی ہی میں شکار ہے آج برافروختہ رخ ہے اس کا کس خوبی سے مستی میں پی کے شراب شگفتہ ہوا ہے اس نو گل پہ بہار ہے آج اس کا بحرحسن سراسر اوج و موج و تلاطم ہے شوق کی اپنے نگاہ جہاں تک جاوے بوس و کنار ہے آج آنکھیں اس کی لال ہوئیں ہیں اور چلے جاتے ہیں سر رات کو دارو پی سویا تھا اس کا صبح خمار ہے آج گھر آئے ہو فقیروں کے تو آئو بیٹھو لطف کرو کیا ہے جان بن اپنے کنے سو ان قدموں پہ نثار ہے آج کیا پوچھو ہو سانجھ تلک پہلو میں کیا کیا تڑپا ہے کل کی نسبت دل کو ہمارے بارے کچھ تو قرار ہے آج مت چوکو اس جنس گراں کو دل کی وہیں لے جائو تم ہندستان میں ہندوبچوں کی بہت بڑی سرکار ہے آج خوب جو آنکھیں کھول کے دیکھا شاخ گل سا نظر آیا ان رنگوں پھولوں میں ملا کچھ محوجلوئہ یار ہے آج جذب عشق جدھر چاہے لے جائے ہے محمل لیلیٰ کا یعنی ہاتھ میں مجنوں کے ناقے کی اس کے مہار ہے آج رات کا پہنا ہار جو اب تک دن کو اتارا ان نے نہیں شاید میر جمال گل بھی اس کے گلے کا ہار ہے آج

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR