میر تقی میر میر تقی میر

دل کو اس بے مہر سے ہم نے لگایا ہے عبث

دل کو اس بے مہر سے ہم نے لگایا ہے عبث مہر کی رکھ کر توقع جی کھپایا ہے عبث دیکھ کر اس کو کھڑے سوجی سے ہم عاشق ہوئے بیٹھے بیٹھے ناگہاں یہ رنج اٹھایا ہے عبث اپنی تو بگڑی ہی کوئی کام کی صورت نہیں ان نے بے لطفی سے منھ اچھا بنایا ہے عبث جی کے جاتے وہ جو نو خط آتا تو بابت بھی تھی لطف کر مردے پہ عاشق کے اب آیا ہے عبث تب تو خانہ باغ سے اپنے نہ پوچھی بات بھی کیا جو تربت پر مری اب پھول لایا ہے عبث رات دن سنتا ہے نالے یوں نہیں کہتا کبھو میر دل آزردہ کو کن نے ستایا ہے عبث

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR