میر تقی میر میر تقی میر

زرد ہیں چہرے سوکھ گئے ہیں یعنی ہیں بیمار بہت

زرد ہیں چہرے سوکھ گئے ہیں یعنی ہیں بیمار بہت عشق کی گرمی دل کو پہنچی کہتے ہی آزار بہت نالہ و زاری سے عاشق کی کیا ابر بہاری طرف ہو گا دل ہے نالاں حد سے زیادہ آنکھیں ہیں خونبار بہت برسوں ہوئے اب ہم لوگوں سے آنکھ انھوں کی نہیں ملتی برسوں تک آپس میں رہا ہے اپنے جنھوں کے پیار بہت ارض و سما کی پستی بلندی اب تو ہم کو برابر ہے یعنی نشیب و فراز جو دیکھے طبع ہوئی ہموار بہت سو غیروں میں ہو عاشق تو ایک اسی سے شرماویں اس مستی میں آنکھیں اس کی رہتی ہیں ہشیار بہت کم ہے ہمیں امید بہی سے اتنی نزاری پر اس کی پچھلے دنوں دیکھا تھا ہم نے عاشق تھے بیمار بہت میر نہ ایسا ہووے کہیں پردے ہی پر وہ مار مرے ڈر لگتا ہے اس سے ہم کو ہے وہ ظاہر دار بہت

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR