میر تقی میر میر تقی میر

دل کی تہ کی کہی نہیں جاتی نازک ہے اسرار بہت

دل کی تہ کی کہی نہیں جاتی نازک ہے اسرار بہت انچھر ہیں تو عشق کے دوہی لیکن ہے بستار بہت کافر مسلم دونوں ہوئے پر نسبت اس سے کچھ نہ ہوئی بہت لیے تسبیح پھرے ہم پہنا ہے زنار بہت ہجر نے جی ہی مارا ہمارا کیا کہیے کیا مشکل ہے اس سے جدا رہنا ہوتا ہے جس سے ہمیں ہے پیار بہت منھ کی زردی تن کی نزاری چشم تر پر چھائی ہے عشق میں اس کے یعنی ہم نے کھینچے ہیں آزار بہت کہہ کے تغافل ان نے کیا تھا لیکن تقصیر اپنی ہے کام کھنچا جو تیغ تک اس کی ہم نے کیا اصرار بہت حرف و سخن اب تنگ ہوا ہے ان لوگوں کا ساتھ اپنے منھ کرنے سے جن کی طرف آتی تھی ہم کو عار بہت رات سے شہرت اس بستی میں میر کے اٹھ جانے کی ہے جنگل میں جو جلد بسا جا شاید تھا بیمار بہت

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR