میر تقی میر میر تقی میر

تاب عشق نہیں ہے دل کو جی بھی بے طاقت ہے اب

تاب عشق نہیں ہے دل کو جی بھی بے طاقت ہے اب یعنی سفر ہے دور کا آگے اور اپنی رخصت ہے اب وصل میں کیا کیا صحبتیں رنگیں کس کس عیش میں دن گذرے تنہا بیٹھ رہے ہیں یک سو ہجر میں یہ صحبت ہے اب جب سے بناے صبح ہستی دو دم پر یاں ٹھہرائی کیا کیا کریے اس مہلت میں کچھ بھی ہمیں فرصت ہے اب چور اچکے سکّھ مرہٹے شاہ و گدا زرخواہاں ہیں چین سے ہیں جو کچھ نہیں رکھتے فقر بھی اک دولت ہے اب پائوں پہ سر رکھنے کی مجھ کو رخصت دی تھی میر ان نے کیا پوچھو ہو سر پر میرے منت سی منت ہے اب

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR