میر تقی میر میر تقی میر

کب سے صحبت بگڑ رہی ہے کیونکر کوئی بناوے اب

کب سے صحبت بگڑ رہی ہے کیونکر کوئی بناوے اب ناز و نیاز کا جھگڑا ایسا کس کے کنے لے جاوے اب سوچتّے آتے ہیں جی میں پگڑی پر گل رکھے سے کس کو دماغ رہا ہے اس کے جو حرف خشن اٹھاوے اب تیغ بلند ہوئی ہے اس کی قسمت ہوں گے زخم رسا مرد اگر ہے صیدحرم تو کوئی جراحت کھاوے اب داغ سر و سینے کے میرے حسرت آگیں چشم ہوئے دیکھیں کیا کیا عشق ستم کش ہم لوگوں کو دکھاوے اب دم دو دم گھبراہٹ ہوتو ہوسکتا ہے تدارک بھی جی کی چال سے پیدا ہے سو کوئی گھڑی میں جاوے اب دل کے داغ بھی گل ہیں لیکن دل کی تسلی ہوتی نہیں کاشکے دو گلبرگ ادھر سے بائو اڑا کر لاوے اب اس کے کفک کی پامالی میں دل جو گیا تھا شاید میر یار ادھر ہو مائل ٹک تو وہ رفتہ ہاتھ آوے اب

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR