میر تقی میر میر تقی میر

کچھ اندیشہ ہم کو نہیں ہے اپنے حال درہم کا

کچھ اندیشہ ہم کو نہیں ہے اپنے حال درہم کا آٹھ پہر رہتا ہے رونا اس کی دوری کے غم کا روتے کڑھتے خاک میں ملتے جیتے رہے ہم دنیا میں دس دن اپنی عمر کے گویا عشرہ تھا یہ محرم کا کشتی ہماری عشق میں کیا تھی ہاتھ ملاتے پاک ہوئی پاے ثبات نہ ٹھہرا دم بھر اس میدان میں رستم کا عالم نیستی کیا عالم تھا غم دنیا و دیں کا نہ تھا ہوش آیا ہے جب سے سر میں شوق رہا اس عالم کا یاں واجب ہے ہم کو تم کو دم لیویں تو شمردہ لیں دینا ہو گا حساب کسو کو یک دم ہی میں دم دم کا چھاتی کوٹی منھ نوچا سر دے دے مارا پتھر پر دل کے خوں ہونے میں ہمارا یہی طریق ہے ماتم کا لڑکے شوخ بہت ہیں لیکن ویسا میر نہیں کوئی دھوم قیامت کی سی ہے ہنگامہ اس کے اودھم کا

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR