میر تقی میر میر تقی میر

آیا سو آب تیغ ہی مجھ کو چٹا گیا

آیا سو آب تیغ ہی مجھ کو چٹا گیا تھا وہ برندہ زخموں پہ میں زخم کھا گیا کیا شہر خوش عمارت دل سے ہے گفتگو لشکر نے غم کے آن کے مارا چلا گیا موقوف یار غیر جلانا مرا نہیں جو کوئی اس کے کان لگا کچھ لگا گیا تنہائی بیکسی مری یک دست تھی کہ میں جیسے جرس کا نالہ جرس سے جدا گیا کیا تم سے اپنے دل کی پریشانی میں کہوں دریاے گریہ جوش زناں تھا بہا گیا روزانہ اب تو اپنے تئیں سوجھتا نہیں آخر کو رونا راتوں کا ہی دن دکھا گیا سررفتگی بدی مری ننوشتنی ہے میر قاصد جو لے کے نامہ گیا سو بھلا گیا

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR