میر تقی میر میر تقی میر

ناخن سے بوالہوس کا گلا یوں ہی چھل گیا

ناخن سے بوالہوس کا گلا یوں ہی چھل گیا لوہو لگا کے وہ بھی شہیدوں میں مل گیا دل جمع تھا جو غنچہ کے رنگوں خزاں میں تھا اے کیا کہوں بہار گل زخم کھل گیا بے دل ہوئے پہ کرتے تدارک جو رہتا ہوش ہم آپ ہی میں آئے نہیں جب سے دل گیا دیکھا نہیں پہاڑ گراں سنگ یا سبک زوروں چڑھا تھا عشق میں فرہاد پل گیا شبنم کی سی نمود سے تھا میں عرق عرق یعنی کہ ہستی ننگ عدم تھی خجل گیا غم کھینچتے ہلا نہیں جاگہ سے کیا کروں دل جا لگے ہے دم بہ دم اودھر ہی ہل گیا صورت نہ دیکھی ویسی کشادہ جبیں کہیں میں میر اس تلاش میں چین و چگل گیا

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR