میر تقی میر
سر مارنا پتھر سے یا ٹکڑے جگر کرنا
سر مارنا پتھر سے یا ٹکڑے جگر کرنا
اس عشق کی وادی میں ہر نوع بسر کرنا
کہتے ہیں ادھر منھ کر وہ رات کو سوتا ہے
اے آہ سحرگاہی ٹک تو بھی اثر کرنا
دیواروں سے سر مارا تب رات سحر کی ہے
اے صاحب سنگیں دل اب میری خبر کرنا