میر تقی میر
جدا اس سیم تن سے کیسا سونا
جدا اس سیم تن سے کیسا سونا
کہ مٹی کوڑے کا اب ہے بچھونا
بہت کی جستجو اس کی نہ پایا
ہمیں درپیش ہے اب جی کا کھونا
جگر کے زخم شاید ہیں نمک بند
مزہ کچھ آنسوئوں کا ہے سلونا