میر تقی میر میر تقی میر

جاذبہ میرا تھا کامل سو بندے کے وہ گھر آیا

جاذبہ میرا تھا کامل سو بندے کے وہ گھر آیا شکر خدا کا کریے کہاں تک عہد فراق بسر آیا بجلی سا وہ چمک گیا آنکھوں سے پھوئیں پڑنے لگیں ابر نمط خفگی سے اس بن جی بھی رندھا دل بھر آیا گل تھے سو سو رنگ پر ایسا شورطیور بلند نہ تھا اس کے رنگ چمن میں کوئی شاید پھول نظر آیا سیل بلا جوشاں تھا لیکن پانی پانی شرم سے تھا ساحل دریا خشک لبی دیکھے سے میری تر آیا کیا ہی خوش پرکار ہے دلبر نوچہ کشتی گیر اپنا کوئی زبردست اس سے لڑ کر عہدے سے کب بر آیا صنعت گریاں بہتیری کیں لیک دریغ ہزار دریغ جس سے یار بھی ملتا ہم سے ایسا وہ نہ ہنر آیا میر پریشاں خاطر آکر رات رہا بت خانے میں راہ رہی کعبے کی اودھر یہ سودائی کدھر آیا

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR