میر تقی میر میر تقی میر

عشق صمد میں جان چلی وہ چاہت کا ارمان گیا

عشق صمد میں جان چلی وہ چاہت کا ارمان گیا تازہ کیا پیمان صنم سے دین گیا ایمان گیا میں جو گدایانہ چلایا در پر اس کے نصف شب گوش زد آگے تھے نالے سو شور مرا پہچان گیا آگے عالم عین تھا اس کا اب عین عالم ہے وہ اس وحدت سے یہ کثرت ہے یاں میرا سب گیان گیا مطلب کا سررشتہ گم ہے کوشش کی کوتاہی نہیں جو طالب اس راہ سے آیا خاک بھی یاں کی چھان گیا خاک سے آدم کر دکھلایا یہ منت کیا تھوڑی ہے اب سر خاک بھی ہوجاوے تو سر سے کیا احسان گیا ترک بچے سے عشق کیا تھا ریختے کیا کیا میں نے کہے رفتہ رفتہ ہندستاں سے شعر مرا ایران گیا کیونکے جہت ہو دل کو اس سے میر مقام حیرت ہے چاروں اور نہیں ہے کوئی یاں واں یوں ہی دھیان گیا

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR