میر تقی میر
شیخ حرم سے لڑکے چلا ہوں اب کعبے میں نہ آئوں گا
شیخ حرم سے لڑکے چلا ہوں اب کعبے میں نہ آئوں گا
تا بت خانہ ہر قدم اوپر سجدہ کرتا جائوں گا
بہر پرستش پیش صنم ہاتھوں سے قسیس رہباں کے
رشتہ سبحہ تڑائوں گا زنار گلے سے بندھائوں گا
رود دیر کے پانی سے یا آب چاہ سے اس جا کے
واسطے طاعت کفر کے میں دونوں وقت نہائوں گا
طائف رستہ کعبے کا جو کوئی مجھ سے پوچھے گا
جانب دیر اشارت کر میں راہ ادھر کی بھلائوں گا
بے دیں اب جو ہوا سو ہوا ہوں طوف حرم سے کیا مجھ کو
غیر از سوے صنم خانہ میں رو نہ ادھر کو لائوں گا
آگے مسافر میر عرب میں اور عجم میں کہتے ہیں
اب شہروں میں ہندستاں کے کافر میر کہائوں گا