میر تقی میر
ہر جا پھرا غبار ہمارا اڑا ہوا
ہر جا پھرا غبار ہمارا اڑا ہوا
تیری گلی میں لائی صبا تو بجا ہوا
آہ سحر نے دل کی نہ کھولی گرہ کبھی
آخر نسیم سے بھی یہ غنچہ نہ وا ہوا
وے میر اثر جو شورش دل میں تھے ہیں کہاں
نالے کیے جرس نے بہت سے تو کیا ہوا