میر تقی میر
طوف مشہد کو کل جو جائوں گا
طوف مشہد کو کل جو جائوں گا
تیغ قاتل کو سر چڑھائوں گا
وصل میں رنگ اڑ گیا میرا
کیا جدائی کو منھ دکھائوں گا
چھانتا ہوں کسی گلی کی خاک
دل کو اپنے کبھو تو پائوں گا
اس کے در پر گئے ہیں تاب و تواں
گھر تلک اپنے کیوں کے جائوں گا
لوٹتا ہے بہار منھ کی خط
میر میں اس پہ زہر کھائوں گا