میر تقی میر
ہے حرف خامہ دل زدہ حسن قبول کا
ہے حرف خامہ دل زدہ حسن قبول کا
یعنی خیال سر میں ہے نعت رسولؐ کا
رہ پیروی میں اس کی کہ گام نخست میں
ظاہر اثر ہے مقصد دل کے وصول کا
وہ مقتداے خلق جہاں اب نہیں ہوا
پہلے ہی تھا امام نفوس و عقول کا
سرمہ کیا ہے وضع پئے چشم اہل قدس
احمدؐ کے رہگذار کی خاک اور دھول کا
ہے متحد نبیؐ و علیؓ و وصی کی ذات
یاں حرف معتبر نہیں ہر بوالفضول کا
دھو منھ ہزار پانی سے سو بار پڑھ درود
تب نام لے تو اس چمنستاں کے پھول کا
حاصل ہے میر دوستی اہل بیت اگر
تو غم ہے کیا نجات کے اپنی حصول کا