میر تقی میر میر تقی میر

گلبرگ سی زباں سے بلبل نے کیا فغاں کی

گلبرگ سی زباں سے بلبل نے کیا فغاں کی سب جیسے اڑ گئی ہے رنگینی گلستاں کی مطلوب گم کیا ہے تب اور بھی پھرے ہے بے وجہ کچھ نہیں ہے گردش یہ آسماں کی مائل ستم کے ہونا جور و جفا بھی کرنا انصاف سے یہ کہنا یہ رسم ہے کہاں کی ہے سبزئہ لب جو اس لطف سے چمن میں جوں بھیگتی مسیں ہوں کوئی سرو نوجواں کی میں گھر جہاں میں اپنے لڑکوں کے سے بنائے جب چاہا تب مٹایا بنیاد کیا جہاں کی صوم و صلوٰۃ یکسو میخانے میں جو تھے ہم آواز بھی نہ آئی کانوں میں یاں اذاں کی جب سامنے گئے ہم ہم نے اسے دعا دی شکل ان نے دیکھتے ہی غصہ کیا زباں کی دیکھیں تو میر کیونکر ہجراں میں ہم جیے ہیں ہے اضطراب دل کا بے طاقتی ہے جاں کی

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR