میر تقی میر میر تقی میر

کیا عشق بے محابا ستھرائو کر رہا ہے

کیا عشق بے محابا ستھرائو کر رہا ہے میداں بزن گہوں کے کشتوں سے بھر رہا ہے غیرت سے دلبری کی ڈر چاندنی نہ دیکھی مہتابی ہی رخ اس کا پیش نظر رہا ہے خوں ریز ناتواں میں اتنا نہ کوئی بولا کیا مارتا ہے اس کو یہ آپھی مر رہا ہے پائیز کب کرے ہے افسردہ خستہ اتنا تو بھی جدا کسو سے اے گل مگر رہا ہے خجلت سے آج کل کیا ان نے کیا کنارہ دریا ہمیشہ میرے گریے سے تر رہا ہے میں اک نگاہ گاہے خوش رو کوئی نہ دیکھا الفت رہی ہے جس سے اس ہی کا ڈر رہا ہے رہتا نہیں ہے رکھے تھمتا نہیں تھمائے دل اب تڑپ تڑپ کر اک ظلم کر رہا ہے یہ کارواں سرا تو رہنے کی گوں نہ نکلی ہر صبح یاں سے ہم کو عزم سفر رہا ہے بعد از نماز سجدہ اس شکر کا کروں ہوں روزوں کا چاند پیدا سب بے خبر رہا ہے کیا پھر نظر چڑھا ہے اے میر کوئی خوش رو یہ زرد زرد چہرہ تیرا اتر رہا ہے

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR