میر تقی میر
دوستی نے تو ہماری جاں گدازی خوب کی
دوستی نے تو ہماری جاں گدازی خوب کی
آہ اس دشمن نے یہ عاشق نوازی خوب کی
گور پر آیا سمند ناز کو جولاں کیے
اس سپاہی زادے نے کیا ترک تازی خوب کی
عاشقوں کی خستگی بدحالی کی پروا نہیں
اے سراپا ناز تونے بے نیازی خوب کی
تنگ چولی نے تو مارا تنگ درزی سے ہمیں
خاک بھی برباد کی دامن درازی خوب کی
سان مارا اور کشتوں میں مرے کشتے کو بھی
اس کشندے لڑکے نے بے امتیازی خوب کی
چھوڑ کر معمورئہ دنیا کو جنگل جا بسے
ہم جہان آب و گل میں خانہ سازی خوب کی
کھیل لڑکوں کا سمجھ کر چاہ کو آخر گئے
میر پیری میں تو تم نے عشق بازی خوب کی