میر تقی میر میر تقی میر

خم ہوا قد کماں سا پیر ہوئے

خم ہوا قد کماں سا پیر ہوئے سو ہم اس کے نشان تیر ہوئے اب نہ حسرت رہے گی مرنے تک موسم گل میں ہم اسیر ہوئے میں ہی درویش خوار و زار نہیں عشق میں بادشہ فقیر ہوئے ہے شرارت کا وقت عہد شباب تم لڑکپن ہی سے شریر ہوئے گھر کو اس کے خراب ہی دیکھا جس کے یہ چشم و دل مشیر ہوئے شور جن کے سروں میں عشق کا تھا وے جواں سارے پاے گیر ہوئے یاں کی خلقت کی ہے زباں الٹی کہتے ہیں اندھوں کو بصیر ہوئے نہ ہوئے ہم نظیریؔ سے یوں تو شعر کے فن میں بے نظیر ہوئے بات کا ہم سے ان کو کب ہے دماغ میر درویشی میں امیر ہوئے

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR