میر تقی میر
گل نے بہت کہا کہ چمن سے نہ جایئے
گل نے بہت کہا کہ چمن سے نہ جایئے
گلگشت کو جو آئیے آنکھوں پہ آئیے
میں بے دماغ کرکے تغافل چلا گیا
وہ دل کہاں کہ ناز کسو کے اٹھایئے
صحبت عجب طرح کی پڑی اتفاق ہائے
کھو بیٹھیے جو آپ کو تو اس کو پائیے
رنجیدگی ہماری تو پر سہل ہے ولے
آزردہ دل کسو کو نہ اتنا ستایئے
خاطر ہی کے علاقے کی سب ہیں خرابیاں
اپنا ہو بس تو دل نہ کسو سے لگایئے
اے ہمدم ابتدا سے ہے آدم کشی میں عشق
طبع شریف اپنی نہ ایدھر کو لایئے
اتنی بھی کیا ہے دیدہ درائی کہ غیر سے
آنکھیں لڑایئے ہمیں آنکھیں دکھایئے
مچلا ہے وہ تو دیکھ کے لیتا ہے آنکھیں موند
سوتا پڑا ہو کوئی تو اس کو جگایئے
جان غیور پر ہے ستم سا ستم کہ میر
بگڑا جنھوں سے چاہیے ان سے بنایئے