میر تقی میر میر تقی میر

جو جنون و عشق کی تدبیر ہے

جو جنون و عشق کی تدبیر ہے سو نہ یاں شمشیر نے زنجیر ہے وصف اس کا باغ میں کرنا نہ تھا گل ہمارا اب گریباں گیر ہے دیکھ رہتا ہے جو دیکھے ہے اسے دلربا آئینہ رو تصویر ہے پاے گیر اس کے نہ ہوں کیوں درد مند حلقہ حلقہ زلف وہ زنجیر ہے صید کے تن پر ہیں سب گلہاے زخم کس قدر خوش کار اس کا تیر ہے مدت ہجراں نے کی نے کچھ کمی میرے طول عمر کی تقصیر ہے خط نہ لکھتے تھے سو تاب دل گئی دفتروں کی اکثر اب تحریر ہے رکھ نظر میں بھی خراب آبادیاں اے کہ تجھ کو کچھ غم تعمیر ہے سخت کافر ہیں برہمن زادگاں مسلموں کی ان کے ہاں تکفیر ہے گفتگو میں رہتے تھے آگے خموش ہر سخن کی اب مرے تقریر ہے نظم محسنؔ کی رہی سرمشق دیر اس مرے بھی شعر میں تاثیر ہے مر گئے پر بھی نہ رسوائی گئی شہر میں اب نعش بھی تشہیر ہے کیا ستم ہے یہ کہ ہوتے تیغ و طشت ذبح کرنے میں مرے تاخیر ہے میر کو ہے کیا جوانی میں صلاح اب تو سارے میکدے کا پیر ہے

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR