میر تقی میر میر تقی میر

میں ہوں تو ہے درمیاں شمشیر ہے

میں ہوں تو ہے درمیاں شمشیر ہے سفک دم میں میرے اب کیا دیر ہے خضر دشت عشق میں مت جا کہ واں ہر قدم مخدوم خوف شیر ہے راہ تک تک کر ہوئے ہیں جاں بہ لب پر وہی اب تک بھی یاں اوسیر ہے جو گرسنہ دل تھا اس دیدار کا اپنے جینے ہی سے وہ اب سیر ہے کچھ نہیں جاں ان کے پیش تار مو گھر میں شمعی رنگوں کے اندھیر ہے پاک ہی ہوتی رہی کشتی خلق ہر زبردست اس جواں کا زیر ہے طائروں نے گل فشاں کی میری گور سامنے پھولوں کا گویا ڈھیر ہے آشنا ڈوبے بہت اس دور میں گرچہ جامہ یار کا کم گھیر ہے آنچل اس دامن کا ہاتھ آتا نہیں میر دریا کا سا اس کا پھیر ہے

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR