میر تقی میر
کچھ نہ کی ان نے جس کو چاہا ہے
کچھ نہ کی ان نے جس کو چاہا ہے
جوں توں اپنا کیا نباہا ہے
سدھ خبر اپنے غمزدے کی لے
صبح تک رات کو کراہا ہے
یاعلیؓ ہے گا میر پیر فقیر
اب سزاوار لطف شاہا ہے